ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / بیدر کے اسکول طلبا سے بار بار پوچھ تاچھ کامعاملہ؛ کرناٹک چائلڈ رائٹس کمیشن نے پولس افسران کو لگائی پھٹکار، کہا؛ بچوں سے پوچھ تاچھ بند کی جائے

بیدر کے اسکول طلبا سے بار بار پوچھ تاچھ کامعاملہ؛ کرناٹک چائلڈ رائٹس کمیشن نے پولس افسران کو لگائی پھٹکار، کہا؛ بچوں سے پوچھ تاچھ بند کی جائے

Sat, 08 Feb 2020 11:51:36    S.O. News Service

بنگلور 8/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی) بیدر میں واقع شاہین اسکول میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف گزشتہ دنوں پیش کئے گئے  ایک ڈرامہ کے معاملے میں اسکول کے بچوں اور ٹیچروں سے بار بار پوچھ تاچھ کئے جانے کے معاملے پر کرناٹک حقو ق اطفال کمیشن نے  پولس آفسران کو پھٹکار لگائی ہے  اور پولس پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں سے پوچھ تاچھ کا سلسلہ کا بند کرے۔

خیال رہے کہ شہریت قانون کی مخالفت میں اسکول میں ایک ڈرامہ پیش کیا گیا تھا جس کے بعد اسکول کی ہیڈ مسٹریس اور ڈرامہ میں شامل بچوں کے خلاف ملک سے غداری کا کیس درج کیا گیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ کیس درج کیے جانے کے بعد لگاتار اسکول کے بچوں اور وہاں کے ٹیچروں سے پوچھ تاچھ جاری ہے جس کی وجہ سے بچوں میں  خوف کا عالم طاری  ہو گیا ہے۔ کرناٹک پولس نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ میں شامل ایک بیوہ ماں کے 9 سالہ بیٹے سے بھی لگاتار پوچھ تاچھ کر رہی ہے جس پر کرناٹک چائلڈ رائٹس کمیشن (کرناٹک حقوق اطفال کمیشن) نے سخت رخ اختیار کیا ہے اور  ضلع پولس پر کئی قوانین اور جوینائل جسٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

کرناٹک اسٹیٹ  کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (کے ایس پی سی آر) کے چیئرمین ڈاکٹر انٹولی سیبسٹین نے بیدر پولس کے افسران کو ایک خط لکھا ہےجس میں ایس پی، ڈپٹی کمشنر اور ڈی جی پی سطح کے افسر ان سے کہا گیا ہے کہ شاہین پرائمری اسکول میں پولس جانچ کے نام پر خوف کا ماحول بنایا گیا ہے۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پولس کو فوراً اسکولی بچوں سے پوچھ تاچھ بند کر دینی چاہیے۔

قابل ذکر ہے کہ کرناٹک کے بیدر میں ’شاہین پرائمری اسکول‘ نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جو ڈرامہ منعقد کیا تھا، اس کے خلاف پولس کی کارروائی کے سبب کئی خاندان پریشان ہیں۔ ایک طرف تو ڈرامہ میں حصہ لینے والے طلبا و طالبات سے بار بار پوچھ تاچھ ہو رہی ہے جس کی وجہ سے ان کے اہل خانہ ذہنی پریشانی میں مبتلا ہیں، اور دوسری طرف اسکول کی ہیڈ مسٹریس کو وطن غداری کے الزام میں گرفتار کیے جانے سے ان کی 10 سالہ بیٹی بے حال ہے۔

ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں ایک ڈرامہ کی قیمت اسکول، استاذ اور طلبا کو اس طرح چکانی پڑے گی، ایسا کسی کو اندازہ نہیں تھا۔ بیدر کے پولس سپرنٹنڈنٹ ڈی ایل ناگیش نے گزشتہ دنوں کہا کہ ’’اسکول میں متنازعہ ڈرامہ پیش کیے جانے کے معاملے میں والدین سمیت کسی پر بھی ظلم نہیں کیا گیا ہے اور پولس نے چائلڈ جیوڈیشیل ایکٹ کی خلاف ورزی بھی نہیں کی۔‘‘ حالانکہ شاہین ایجوکیشن سوسائٹی کے چیف ایگزیکٹیو افسر (سی ای او) توصیف مدیکری نے الزام عائد کیا ہے کہ پولس شہریت قانون کے خلاف کیے گئے ڈرامہ میں حصہ لینے والے پرائمری اسکول کے طلبا کو لگاتار پریشان کر رہی ہے۔ توصیف مزید کہتے ہیں کہ ’’اب تک تقریباً 80 طلبا اور کئی اساتذہ سے پوچھ تاچھ کی گئی ہے۔ مجھے یہ نہیں سمجھ آ رہا کہ ایک ہی سوال بار بار پوچھ کر پولس کیا جاننے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘


Share: